نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
ادھر سر اس نے کاٹا ایک ادھر ایک اور سر نکلا
چڑھایا عرش پر ہم کو کمالِ بت پرستی نے
تجلی طور کی دیکھی جو پتھر سے شرر نکلا
نہیں گریہ زلیخا وہ نہیں گر یوسفِ مصری
تو پھر کیوں مہر کے پنجے سے دامانِ سحر نکلا
بخیلوں سے امیدِ فیض کیا ہو آخری دم تک
مٹے گل خاک ہو کر اور مٹھی سے نہ زر نکلا
ہے شیخ اولادِ آدم کیا جگہ پائے گا جنت میں
رسائی کیا وہاں بیٹے کی جس گھر سے پدر نکلا
خطر بادِ حوادث سے جو تھا میرے برے دن کو
چراغِ مہر لے کر زیرِ دامانِ سحر نکلا
گرفتاروں پہ اے صیاد رحمت دیکھ خالق کی
اکھاڑا پر جہاں تو نے وہیں ایک اور پر نکلا
جو نکلا حلق سے تیرے افق اس ناوک افگن کا
بغل سے دل بدن سے روح سینے سے جگر نکلا
